About

The life story of Hanan Ali Abbasi – from an ordinary villager to founder of Pakistan’s leading recognized National level Youth Platform the National Youth Assembly is one of unique stories. He has rendered outstanding service to promote youth empowerment, democracy, social service & literature among youth at early age of his life. He authored two books & also got name and fame as a Broadcaster. Mr. Abbasi has been recognized for his essential and innovative work both nationally and internationally, most notably by the Commonwealth International Secretariat London from where he received credible Youth award of almost 54 Commonwealth countries in the field of Democracy & Human. He was selected from a long list of applicants of 36 Commonwealth countries who submitted their profiles for this prestigious award. This achievement was also highlighted by International Media. Despite belonging to backward surroundings he put his determined efforts and ultimately in order to fill this vacuum of Youth representation and leadership training he came up with the idea to gather the youth at a common platform and to give them the learning environment to speak. This idea was named, “National Youth Assembly – NYA, “which has now successfully established a wide network in more than 100 Districts and 25 Universities of Pakistan with over 30,000 youth representatives as agent of change working dynamically in the field of youth empowerment, democracy, human rights, education and social work. The NYA is the only platform which recognized under section 42 of the ordinance 1984 conferred by concerned authority of Government of Pakistan to promote the agenda of Youth Development in the country. More than 40 District Administrations of the country had officially patronized NYA and issued notifications to provide hall and security for National Youth Assembly’s sessions in their respective Districts. Similarly, the leading public universities of Higher Education Commission have also patronized NYA. Honorably, the National Book Foundation, Govt of Pakistan titled Mr. Hanan Ali Abbasi as “National Young Book Ambassador”. He also received the highest official Youth award of Pakistan “National Youth Award 2010” from Ministry of Youth Government of Pakistan. His real-life journey has come to the glory when he has given the opportunity to pay a visit to the United Kingdom, China, Hong Kong, Sri Lanka and Iran as a state guest. Numerous top-notch universities and organizations have invited Hanan Abbasi to share his longstanding experiences as a role model for Youth. His unique Travelodge “Chen say Bartania Tak” was officially published by renowned publishing house Institute of Policy Study. Similarly, his 1st Book “Zameeni Sitray” was declared “Best Book” for career guidance and motivation and officially distributed in high and Higher Secondary institutions by two Governmental Administrations. Moreover, he is Gold Medalist from Nazria-e-Pakistan council and has participated in more than 250 national/international Television talk shows and has hosted more than 500 live radio programs from NBS Radio Pakistan Islamabad. Distinctively, he introduced a unique approach for promotion of his books in Youth who are away from books through video documentaries to influence his own widespread social media following. Hanan Abbasi also consistently invests his energies into motivating, resourcing, and equipping young leaders for the bright future of the country.

حنا ن علی عباسی کی داستا نِ حیا ت پا کستا ن کے ایک عام دیہا تی بچے سے قو می سطح کے ایک مستند اور متحر ک یوتھ پلیٹ فا رم ”نیشنل یو تھ اسمبلی“کے با نی تک پھیلی ایک منفر د کہا نی ہے۔آپ کم عمر ی میں پا کستا نی نو جو ان نسل کو با اختیا ر کر نے، جمہو ری،سما جی خد ما ت اور ادبی رویو ں کے فر وغ کے لیے گر اں قد ر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔آپ دو کتا بو ں کے مصنف ہیں اور ایک معر وف نو جو ان بر اڈ کاسٹر کے طو ر پر بھی شہر ت رکھتے ہیں۔حنا ن عبا سی کے منفر د آئیڈ یا ز کو قو می اور بین الا قو می سطح پرسہر اہا گیا با لخصو ص دولت مشتر کہ انٹر نیشنل سیکر یٹر یٹ لند ن کی طر ف سے انہیں جمہو ریت اورانسا نی حقو ق کے شعبے میں گر اں قد ر خدمات کے عوض دنیا کے 54 مما لک کی نو جو ان نسل کے نما ئند ہ اعز از ”کا من ویلتھ یو تھ ایو ارڈ‘ سے نو ازا گیا۔ اس ایو ارڈ کے لیے اِ ن کا انتخا ب 36 سے زائد مما لک سے اپنی غیر معمو لی کارکردگی کی تفصیلا ت جمع کر انے والے ان کے مد مقا بل نو جو انوں کی ایک طویل فہر ست سے کیا گیا جسے بین الا قو می میڈ یا میں بھی پذ یر ائی ملی۔ایک معمو لی دیہا تی پسِ منظر میں پید ا ہو نے کے با وجو د انہو ں نے انتھک محنت سے نئی نسل کے لیے ایک مشتر کہ قو می یو تھ پلیٹ فا رم کے خو اب کو حقیقت میں بد لا جو آج یو تھ کے نما ئند ہ پلیٹ فا رم کی عد م دستیا بی اور یو تھ لیڈ ر شپ ٹر یننگ کے خلا کو کو مو ثر اند از میں پُر کر نے کے لیے نچلی سطح پر نو جو انو ں کو اپنی آواز بلند کر نے کا تد ریسی ما حو ل فر اہم کر رہا ہے۔اِس تصو ر کو ”نیشنل یو تھ اسمبلی کا نا م ملا جوآج کا میا بی کے ساتھ ملک بھرکے ایک سو سےزائد اضلا ع اور پچیس یو نیو رسٹیز میں 30 ہز ار سے زائد نو جو ان رضاکا روں کا قو می پلیٹ فا رم بن چکا ہے۔یہ فو رم یو تھ کو با اختیا ر بنا نے،نئی نسل میں اعتما د لا نے،ریا ستی اور پا رلیما نی امور پر نو جو انو ں کی دلچسپی پید ا کر نے اسی طر ح جمہو ریت، انسا نی حقو ق،تعلیم اور سما جی خد ما ت کے مید ان میں نچلی سطح پر متحر ک ہو چکا ہے۔نیشنل یو تھ اسمبلی پا کستا نی یو تھ کا وہ واحد ادارہ ہے جسے آرڈیننس 1984ء کی سیکشن 42 کے تحت باضابطہ طو ر پروفا قی حکومت کے متعلقہ ادارے کی جانب سے لا ئسنس جا ری کیا گیا۔نو جو ان نسل کی تر قی کے ایجنڈ ے کو فر وغ دینے کے لیے حکومتِ پاکستان کے زیر انتظا م چلنے والی چالیس کے قریب ضلعی حکو متیں نیشنل یو تھ اسمبلی کی سر کا ری سر پر ستی کر رہی ہیں اور یہی ضلعی حکو متیں با ضا بطہ نو ٹیفکشنز کے ذریعے نیشنل یو تھ اسمبلی کے اجلا سو ں کے انعقا د کے لیے سیکو رٹی اور سرکاری ہا لز فر اہم کر رہی ہیں اور اسی طر ح ہائر ایجو کیشن کمیشن آف پاکستا ن کے زیر انتظا م چلنے والی کئی بڑ ی یو نیو رسٹیزنیشنل یو تھ اسمبلی کی جا معا ت کی سطح پر با ضا بطہ سر پر ست ہیں۔کا بینہ ڈویثر ن کے تحت چلنے والی حکو مت پا کستا ن کی نیشنل بک فا ونڈ یشن نے حنا ن علی عبا سی کو کتاب کا ”قو می نو جو ان سفیر“ قر ار دیا اور سا ل 2010ء میں وزارت امو ر نو جو انا ن حکو مت پا کستا ن نے انہیں پا کستا نی نو جو ان نسل کے اعلیٰ تر ین یو تھ اعز از ”نیشنل یوتھ ایو ارڈ“ عطا کیا۔حنا ن علی عباسی کی قو می سطح کی مختلف کا میا بیو ں کو اُس وقت وسعت ملی جب انہیں ریا ستی مہما ن کے طو ر پر بر طا نیہ،چین،سر ی لنکا،ہا نگ کا نگ اور ایران میں پا کستا نی نو جو ان نسل کی نما ئند گی کا مو قع ملا۔آ پ کے منفر د سفر نا مہ ”چین سے برطا نیہ تک“ کو با قا عد ہ طو ر پرپا کستا ن کے معر وف اشا عتی ادارے انسٹیویٹ آف پا لیسی سٹڈ یز نے شائع کیا۔ اسی طر ح حنا ن عبا سی کی دوسری کتا ب ”زمینی ستا رے“ کو بچو ں کے کیئر ئر گائیڈ نس اور تر غیبی سو چ کی بید اری کے حوالے سے بہترین کتا ب تسلیم کر کے اسے دو ضلعی حکو متو ں نے اپنے ہائی اور ہا ئر سیکنڈ ری سکو لز میں سر کا ری سطح پر فر اہم کیا۔انہیں بطورنو جو ان ر ول ماڈل پا کستا ن کی معر وف یونیورسٹیز تر غیبی لیکچر زکے لیے بھی مد عو کر چکی ہیں۔اِسی طر ح نظر یہ پا کستا ن کو نسل سے حنا ن عبا سی گو لڈ میڈ لسٹ بھی قر ار پا ئے اور انہیں بین الاقومی اور قو می سطح پر نشر ہونے والے ۰۵۲سے زائد ٹیلی ویثر ن پر وگر امز میں نو جو ان نسل کی نمائند گی کا مو قع ملا اور ریڈیو پا کستا ن اسلا م آبا دکی قو می نشر یا تی سر وس پر ۰۰۵ سے زائد برائے راست ریڈ یو پر وگر امز کی میز با نی کرنے کا اعزاز بھی حنا ن کو حا صل ہے۔حنا ن نے غیر معمو لی طو ر پراپنی ادبی تخلیقا ت کو ویڈ یو ڈاکو مینٹر یز کے ذریعے جد ت سے ہم آہنگ کر کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کو استعما ل میں لا یااور پا کستا ن کی نئی نسل کو اپنی حیثیت ں کتا ب سے قر یب لا نے میں تخلیقی کر دار ادا کیا
۔